استنبول 26ستمبر (آئی این ایس انڈیا/ایس او نیوز) صدر رجب طیب ایردوان نے کہا کہ نفرت انگیز مواد اسلام کے ساتھ بڑھتی ہوئی دشمنی کا سب سے عام ذریعہ ہے۔اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 74 ویں اجلاس میں شرکت کے لیے امریکہ کے شہر نیورک میں موجود صدر رجب طیب ایردوان نے ترکی اور پاکستان کی مشترکہ میزبانی میں نفرت انگیز مواد کے زیر عنوان اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ سوشل میڈیا میں ہر روز اور ہر وقت نفرت انگیز مواد کا سامنا کرنا پڑرہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ بدقسمتی سے مسلمان آج نفرت انگیز مواد کا سب سے زیادہ شکار مسلمان بن رہے ہیں اور مسلمان خواتین کو صرف حجاب کی وجہ سے گلیوں، سڑکوں، مارکیٹوں اور کاروباری مراکز میں ہراساں کیا جاتا ہے۔صدر ایردوان نے کہا کہ میں یہاں پر ایک بار پھر نفرت انگیز مواد کی لعنت اور ملامت کرتا ہوں، نفرت انگیز مواد کو کسی بھی صورت آزادی اظہار میں جگہ نہیں دی جانی چاہیے۔ انہوں نے اقوام متحدہ میں نفرت انگیز مواد سے متعلق ڈیٹا بیس بنانے کے کی تجویز کی حمایت کی ہے۔انہوں اس موقع پر مقبوضہ کشمیر کی صورتِ حال پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ مقبوضہ کشمیر اس وقت ایک اوپن ائیر جیل کی حیثیت اختیار کیے ہوئے ہے۔ اس سلسلے میں تمام ممالک کے حکومتی اداروں پر بھاری ذمہ داریاں عائد ہوتی ہیں۔انہوں نے کہا کہ علاقائی اور گلوبل سطح پر کام کرنے والی تمام تنظیمیں جو اس مقصد کے لیے کام کررہی ہیں کو مزید مؤثرکردار ادا کرنے کی ضرورت ہے۔انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ اسلام کو جو کہ امن کا مذہب ہے، کو دہشت گردی سے جوڑنا الزام تراشی اور بد اخلاقی ہے جسے ہرگز قبول نہیں کیا جاسکتا۔صدر ایردوان نے کہا کہ ترکی ہونے کے ناطے اسلام کے لئے ایک بڑھتی ہوئی اسلام دشمنی، نسل پرستی، نفرت انگیز مواد کیخلاف جدو جہد کرنے کی کاروائیوں کی قیادت کرتے رہیں گے۔
صدر ایردوان نے کہا کہ وزیراعظم کی حیثیت سے جب وہ اسرائیل سے فلسطین جا رہے تھے تو سرحد پر نصف گھنٹہ انتظار کروایا گیا جو کہ اسرائیلی لیڈروں کے رویے کی عکاسی کرتا ہے اور جن لوگوں کو وہ پسند کرتے ہوئے ان کے لیے اپنے پورے دروازے کھول دیتے ہیں اور جن کو ناپساند کرتے ہیں ان کے لیے اپنے دروازے بند کردیتے ہیں۔ وہ کبھی بھی مخلص نہیں ہیں۔